ہفتہ 3 جنوری 2026 - 15:36
قسط 1: امام علیؑ کی نظر میں اسلامی سیاست کے اصول

حوزہ/ حضرت علی علیہ السلام نے 8 ذی الحجہ سنہ 35 ہجری قمری کو اسلامی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور 21 رمضان سنہ 40 ہجری کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپؑ کی حکومت کا دورانیہ تقریباً چار سال، نو ماہ اور چند دنوں پر مشتمل ہے، لیکن یہ مختصر مدت انسانی تاریخ میں عدل، اخلاق اور اصولی سیاست کی ایک روشن مثال بن گئی۔

تحریر: مولانا ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری

حوزہ نیوز ایجنسی|

حضرت علی علیہ السلام نے 8 ذی الحجہ سنہ 35 ہجری قمری کو اسلامی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور 21 رمضان سنہ 40 ہجری کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپؑ کی حکومت کا دورانیہ تقریباً چار سال، نو ماہ اور چند دنوں پر مشتمل ہے، لیکن یہ مختصر مدت انسانی تاریخ میں عدل، اخلاق اور اصولی سیاست کی ایک روشن مثال بن گئی۔

آپؑ کے عہدِ خلافت میں اسلامی حکومت کی سرحدیں غیر معمولی وسعت رکھتی تھیں۔ مشرق میں دریائے سندھ، مغرب میں افریقہ کے صحرائی علاقے، شمال میں قفقاز اور جنوب میں خلیجِ عدن تک پھیلی ہوئی اس عظیم مملکت کے حکمران حضرت علیؑ تھے۔ مگر یہ وسیع سلطنت شدید اندرونی و بیرونی بحرانوں کا شکار تھی۔ سیاسی انتشار، طبقاتی ناانصافیاں اور اقتدار پرست عناصر کی سازشیں اسلامی حکومت کو کمزور کر چکی تھیں۔

حضرت علی علیہ السلام نے ایسی نازک صورتِ حال میں حکومت سنبھالی۔ آپؑ نے ابتدا ہی سے واضح کر دیا کہ اسلامی سیاست کی بنیاد دینِ اسلام کی غیر تحریف شدہ تعلیمات ہیں۔ آپؑ کے نزدیک اسلامی حکومت کا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عدل و انصاف کا قیام، معاشرتی توازن اور انسانی کرامت کا تحفظ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کی حکومت سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ گزشتہ ناانصافیوں کا ازالہ کرے گی اور اسلامی معاشرے کو حقیقی استحکام عطا کرے گی۔

لیکن حضرت علیؑ کی عادلانہ پالیسیوں نے ان طبقات کو سخت ناپسند کیا جو بیت المال سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اقتدار کے خوگر افراد، ہوسِ زر میں مبتلا اشرافیہ اور مفاد پرست عناصر اس اصولی سیاست کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے تھے۔ چنانچہ عثمان کے خون کا بہانہ بنا کر حضرت علیؑ کے خلاف محاذ آرائی کی گئی، یہی سیاسی نفاق آگے چل کر جنگِ جمل، صفین اور نہروان جیسے المناک واقعات کا سبب بنا۔

امام علی علیہ السلام کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ آپؑ کی گفتار ہو یا کردار، نشست و برخاست ہو یا طرزِ حکمرانی—ہر پہلو تربیت آموز اور کردار ساز تھا۔ آپؑ کی سیاست محض الفاظ اور نعروں تک محدود نہیں تھی بلکہ عملی عدل و انصاف کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ آپؑ نے تاریخ کو یہ سبق دیا کہ اسلامی حکومت کے اصل خدوخال کیا ہیں اور عدل کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔

امام علیؑ کی سیاسی سیرت کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ آپؑ کے نزدیک سیاست، اخلاقی اقدار سے جدا کوئی شے نہیں تھی۔ آپؑ کے تمام فیصلے عدل، دیانت اور انسانی فلاح کے اصولوں کے تابع تھے۔ حکومت میں ہر تبدیلی اور ہر اقدام کا سرچشمہ یہی اصول تھے، جن پر آپؑ بار بار زور دیتے رہے۔ آپؑ ایسی ہر سیاست کو مسترد کرتے تھے جو مکر و فریب، وقتی مفاد یا ذاتی فائدے پر قائم ہو۔

امیرالمؤمنینؑ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ دھوکے، نعروں اور نمائشی اقدامات سے وقتی سکون تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر یہ طریقے پائیدار اور کارآمد نہیں ہوتے۔ اسی لیے آپؑ نے ذاتی مفاد کو ہمیشہ اجتماعی بھلائی پر قربان کیا اور اسلامی حکومت کے مستقبل کو پیشِ نظر رکھا۔

اسی تناظر میں حضرت علی علیہ السلام کا یہ قول اسلامی سیاست کا نچوڑ پیش کرتا ہے، جس پر ہم آئندہ قسط میں تفصیل سے گفتگو کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha